Monday, 4 September 2017

کیاجنات انسان پر حملہ کرتے ہیں؟

 کیا جنات انسان پر حملہ کرتے ہیں؟
 کیا جنات انسان پر حملہ کرتے ہیں

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں جنات کے وجود سے تو انکار نہیں۔ لیکن یہ جو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص پر جنات کا سایہ ہے، فلاں کو جنات کے دورے پڑتے ہیں، فلاں میں جنات داخل ہو گئے ہیں یا فلاں میں جنات بولتے ہیں، یہ سب جھوٹ، فریب، ڈھکوسلہ بازی یا نفسیاتی بیماری ہے۔
ان کے بقول کچھ بچے یا خواتین اپنے مطالبے پورے نہ ہونے کی وجہ سے جنات کا ڈرامہ رچاکر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ لوگ کسی ذمہ داری سے جان چھڑانے کیلئے اس طرح کا مکر کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی کسی کمزوری پر پردہ ڈالنے کے لئے جنات کا بہانہ بناتے ہیں، کچھ بچے امتحانات کے موقعہ پر آسیب کا دورہ ڈال لیتے ہیں، کچھ لوگوں کو کسی نفسیاتی دباؤ یا کمزوری کی وجہ سے بعض شکلیں نظر آنے لگ جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں کی قوتِ متخیلہ اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہ ایک ایسی غیبی مخلوق کا تصور کرتے ہیں تو ان کا تصور ایک حقیقی رو پ اور جنات کی شکل میں انہیں باقاعدہ نظر بھی آنے لگ جاتا ہے، بعض دفعہ خواتین کو ماہواری کی بندش کی وجہ سے اس طرح کے ھیولے اور شکلیں نظر آنے لگتی ہیں۔ لیکن حقیقی دنیا میں جنات آدمی کو ستا نہیں سکتے۔ وہ انسان پر مسلط نہیں ہوتے۔ نہ ہی ان کے مسلط ہونے سے مرگی جیسے یا کسی اور طرح کے آدمی کو دورے پڑتے ہیں

جسے جنات کا دور ہ پڑتا ہو۔یہ ایک واقعاتی مسئلہ ہے، شرعی نہیں:۔

ہم یہاں یہ بھی واضح کردیں کہ جنات کا کسی کو پریشان کرنا ایک واقعاتی مسئلہ ہے۔ شرعی مسئلہ نہیں ہے کہ ہم اس کے لئے قرآن وسنت سے ثبوت اور دلائل اکٹھے کریں۔ اگر لوگ اس تکلیف کا اظہار کرتے ہیں اور ایسے لوگ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ہیں تو ان کو جھوٹا قرار دینے کی بجائے ان کا علاج کرنا زیادہ ضروری ہے۔
اور اگر لاکھوں لوگ اس تکلیف کا اظہار بھی کرتے ہیں اور انہیں دم جھاڑے سے شفاء بھی ملتی ہے تو یہ دونوں باتیں خود بخود ثابت ہو جاتی ہیں کہ لوگوں کی یہ شکایت بھی سو فیصد درست ہے کہ انہیں آسیب کی شکایت ہے اور عاملین ان کا علاج کرنے کے لئے قرآن وحدیث سے جن آیات اور دعاؤں کی تلاوت کرتے یا دیگر روحانی طریقے اختیار کرتے ہیں وہ ان کا صحیح علاج ہیں۔ اسی لئے لوگوں کو اس دم جھاڑے کے ذریعے شفاء ملتی ہے۔
جنات اور ان کے دوروں کا مسئلہ اگرچہ واقعاتی ہے، شرعی نہیں ہے۔ پھر بھی ہم قرآن وسنت سے ثابت کریں گے کہ جنات کا جس طرح وجود سو فیصد سچی اور کھری حقیقت ہے۔ اسی طرح ان کے بعض لوگوں کا انسانوں کو پریشان کرنا، انسانی وجود میں داخل ہو جانا، انسان میں آکر باتیں کرنا، انسان کو بے ہوش کرنا اور طرح طرح سے اسے تنگ کرنا بھی سو فیصد حقیقت ہے۔

قرآن حکیم سے ثبوت

                                                                                              
جو لوگ سود کھاتے ہیں یہ نہیں کھڑے ہوں گے مگر اس شخص کی طرح جسے شیطان نے چھوکر پاگل کر دیا ہو۔‘‘ (البقرۃ: 275)۔
امام قرطبیؒ : اپنی تفسیر میں اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ’’ اس آیت میں ان لوگوں کی بات کو غلط قرار دیا گیا ہے جو یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ جنات انسانی جسم میں داخل نہیں ہوتے  ۔تفسیرقرطبی:امام ابن جریر طبریؒ : اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ قیامت کے دن اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھو کر پاگل کر دیا ہو، یعنی ایسے شخص کی طرح جس پر آسیب کا سایہ ہو اور وہ بہکی بہکی باتیں کرتا ہو۔‘‘ (تفسیر طبری: 101/3)۔
قرآن حکیم میں عربی کا جو محاورہ ’’یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ‘‘ استعمال کیا گیا ہے اس کا لفظی ترجمہ اگرچہ یہی کیا جاتا ہے کہ ’’جسے شیطان نے چھو کر باؤلا کر دیا ہو‘‘ مگر اس کا حقیقی  اور محاوراتی ترجمہ یہ بنتا ہے ’’ جسے جنات کا دور ہ پڑتا ہو۔امام ابو الحسن اشعریؒ : اس آیت کو معتزلہ کے اس گروہ کے خلاف بطور دلیل پیش فرماتے ہیں جو کہتا تھا کہ آسیب زدہ شخص کے جسم میں آسیب داخل نہیں ہوتا۔ وہ فرماتے ہیں کہ اہل سنت کا مذہب یہی ہے کہ جنات، آسیب زدہ آدمی کے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ (مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ)۔
امام احمد بن حنبل ؒ : کے صاحبزادے عبد اللہ بن احمد فرماتے ہیں کہ میں نے والد صاحب سے سوال کیا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جن، آسیب زدہ انسان کے جسم میں داخل نہیں ہوتا؟ انہوں نے فرمایا: بیٹے! یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ یہی تو اس وقت اس کی زبان پر بول رہا ہوتا ہے۔
حدیث سے ثبوت
جنات کا تذکرہ یوں تو سینکڑوں جگہ احادیث میں آتا ہے۔ یہاں ہم صرف چند وہ واقعات درج کریں گے جن میں خود نبی کریمؐ نے لوگوں میں سے جن نکالا۔
حضورؐ نے ایک بچے کا جن نکالا:۔
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضور اقدسؐ کی خدمت عالیہ میں اپنا بچہ لائی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس بچے پر صبح اور شام کھانے کے اوقات میں جنات کا دورہ پڑتا ہے جس کی وجہ سے ہمارا کھانا خراب ہو جاتا ہے۔ آپ ﷺنے اس بچے کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کیلئے دعاء فرمائی تو اس نے قے کر دی جس سے اس کے پیٹ میں سے کتے کا ایک کالا پلا نکل کر بھاگ گیا۔ (مسند احمد، مسند دارمی، دلائل النبوۃ لابی نعیم، دلائل النبوۃ للبیھقی)۔
حضرت زارع کے بچے کاجن حضورؐ نے نکالا:۔
ام ابان بنت وازع روایت کرتی ہیں کہ ان کے دادا حضرت زارعؓ نبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور شکایت کی کہ یا رسول اللہ! میرے بیٹے کو آسیب کا سایہ ہے۔ آپ ﷺاس کے لئے دعاء فرمائیں۔ آپﷺنے فرمایا اسے میرے پاس لے کر آؤ۔ میں نے واپس جا کر اس کے سفر والے کپڑے تبدیل کراس بچ کے نئے کپڑے پہنائے اور اسے اپنے ساتھ آنحضرتﷺ کی خدمت میں لے آیا۔ آپﷺ نے فرمایا اسے میرے قریب کرو اور پیٹ کے بل لٹادو۔ پھرآپﷺ نے اس بچے کے کپڑوں کو اوپر سے بھی پکڑا اور نیچے سے بھی! اور اس کی پیٹھ پر مارنا شروع کیا اور ساتھ ساتھ یہ حکم دیتے جا رہے تھے کہ: اے اللہ کے دشمن نکل جا، اے اللہ کے دشمن نکل جا! تھوڑی ہی دیرمیں وہ بچہ عام آدمی کی طرح دیکھنے لگ گیا۔ اس سے پہلے وہ دیکھتا نہیں تھا۔ پھر آپﷺ نے بچے کو سامنے بٹھا کر اس کے لئے دعاء فرمائی اور اس کے چہرے پر اپنا دستِ مبارک پھیرا۔ اس دعاء کی وجہ سے ہمارے قافلے کے لوگ اسے اپنے سے بہتر سمجھنے لگے۔ (مجمع الزوائد: 3/9)۔

جن انسانی جسم میں داخل ہو جاتا ہے:۔
جنات انسان کے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ بلکہ حدیث مبارک کے الفاظ تو یہ ہیں کہ وہ انسانی خون کے ساتھ گردش کرتے ہیں۔ چند سطور پہلے امام ابو الحسن اشعریؒ ، امام قرطبی، امام احمد بن حنبل کے اقوال بھی گذر چکے ہیں جنہوں نے قرآنی آیت کا مصداق ومفہوم قرار دیتے ہوئے اسے اہل سنت کا مذہب قرار دیا ہے کہ جن انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے۔
ابھی جو دو احادیث مبارکہ آپ نے پڑھی ہیں ان سے (اور آئندہ آنے والی احادیث سے بھی) یہ امر بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ سچائی اور واقعاتی حقیقت بھی یہی ہے اور احادیث نبوی کی صراحت بھی یہی ہے کہ جنات انسانی جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ پہلی حدیث میں حضرت ابن عباسؓ نے تصدیق کی کہ آپﷺ نے جب بچے کو دم کیا تو جن اس کے منہ سے قے کی وجہ سے چھوٹے کتے کی شکل میں برآمد ہوا۔ یعنی وہ اس کے معدے میں جا کر بیٹھا ہوا تھا جو قے سے برآمد ہوا۔
اور دوسری حدیث میں آپﷺ کا خود اس جن کو مخاطب کر کے بار بار فرمانا کہ اے اللہ کے دشمن باہر نکل جا! اس امر کی واضح دلیل ہے کہ جن اس کے جسم میں داخل تھا اور آپﷺ بھی یہی سمجھ رہے تھے کہ وہ اس کے جسم میں موجود ہے۔ اسی لئے آپﷺ اسے بار بار نکلنے کا حکم دے رہے تھے۔
حضرت یعلیٰ بن مُرَّۃؓ کی روایت:۔
حضرت یعلیٰ بن مرۃ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمؐ کی تین باتیں ایسی دیکھی ہیں جو نہ مجھ سے پہلے کسی نے دیکھیں، نہ ہی میرے بعد کوئی دیکھے گا۔
ہم ایک سفر میں تھے۔ راستے میں ایک عورت بچہ اٹھائے بیٹھی تھی۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ بچہ سخت تکلیف میں ہے۔ دن میں کئی بار اسے دورہ پڑتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا اسے میرے قریب کردو۔ عورت بچے کو قریب لائی اور اسے آپﷺ کے اور آپﷺ کی سواری کے درمیان رکھ دیا۔ آپﷺ نے اس بچے کا منہ کھول کر اس میں تین بار پھونک ماری اور فرمایا:۔
بِسْمِ اللّٰہِ اَنَا عَبْدُاللّٰہِ، اِخْسَاأ عَدُوَّاللّٰہِ!
’’اللہ کے نام سے، میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اللہ کے دشمن نکل جا!‘‘
پھر آپﷺ نے بچہ عورت کو واپس کر دیا اور فرمایا کہ ہماری واپسی پر ہمیں اسی جگہ ملنا اور بچے کی کیفیت بتلانا۔ فرماتے ہیں جب ہم سفر سے واپس آئے تو وہ عورت اسی جگہ ہماری منتظر تھی۔ اور اس کے ساتھ تین بکرے بھی تھے۔
آپﷺ نے بچے کا حال پوچھا توعورت نے بتلایا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ہمیں اس کے بعد بچے کی طرف سے کوئی تکلیف اور پریشانی نہیں پہنچی۔ اور گذارش کی کہ یہ بکرے ہماری طرف سے ہدیہ قبول فرمائیں۔ آپﷺنے فرمایا اترو اور ان میں سے ایک بکرا لے لو، باقی اسے واپس کر دو۔
مجمع الزوائد: 4/9)۔
سیاہ فام آسیب زدہ جنتی عورت:۔
حضرت عطاء بن ابی رباح ؒ فرماتے ہیں کہ ایک بار مجھ سے حضرت عبد اللّٰہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت دکھلاؤں؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ انہوں نے فرمایا یہ سیاہ فام عورت حضور اقدسؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ مجھے دورہ پڑتا ہے اور بے ہوش ہو کر گر پڑتی ہوں جس کی وجہ سے بعض دفعہ میرا ستر کھل جاتا ہے۔ آپﷺ میرے لئے دعاء فرما دیجئے (کہ اس آزار سے میری جان چھوٹ جائے)۔ آپ نے فرمایا:۔

اِنْ شِءْتِ صَبَرْتِ وَلَکِ الْجَنَّۃُ وَاِنْ شِءْتِ دَعَوْتُ اللّٰہَ اَنْ یُّعَافِیَکِ۔
’’اگر تم چاہو تو صبر کر لو (اور اس کے بدلے) تمہیں جنت ملے گی اور اگر چاہو تو میں دعاء کر دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں صحت عطا فرمائیں!‘‘
اس عورت نے جب جنت کی بات سنی تو تکلیف بھول گئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں صبر سے کام لوں گی۔ پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دورے میں میں بے پردہ ہو جاتی ہوں۔ یہ دعاء فرمائیں کہ اس تکلیف کی وجہ سے میرا پردہ نہ کھلا کرے۔ آپﷺ نے اس کے لئے دعاء فرمائی۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔
حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں کہ اس سیاہ فام عورت کا نام امِ زُفَر تھا اور اسے یہ دورہ کسی دماغی خلل کی وجہ سے نہیں بلکہ جنات کی وجہ سے پڑا کرتا تھا۔ (فتح الباری)۔
حضورﷺ نے حضرت عثمان بن ابی العاصؓ کا جن نکالا:۔
حضور اقدسﷺنے حضرت عثمان بن ابی العاصؓ کو طائف کا گورنر بنا کر بھیجا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ان دنوں مجھے یوں لگتا تھا کہ نماز کے دوران کوئی چیز میرے سامنے آجاتی ہے اور اس کی وجہ سے مجھے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں۔ میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضری کیلئے مدینہ منورہ روانہ ہو گیا۔ آپﷺ نے جب مجھے مسجد نبوی شریف میں دیکھا تو فرمایا ابو العاص کے بیٹے، تم ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ! آپﷺنے فرمایا کیسے آنا ہوا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! نماز کے دوران کوئی چیز میرے سامنے آجاتی ہے اور مجھے پتہ نہیں چلتا کہ میں کیا پڑھ رہا

ہوں؟ آپﷺنے فرمایا: یہ شیطان ہے اسے میرے قریب کرو۔ میں آپﷺ کے قریب ہوکر دونوں پیروں کے بل اکڑوں بیٹھ گیا۔ آپﷺ نے اپنا دستِ مبارک میرے سینے پر مارا اور میرے منہ میں تھتکارا اور فرمایا: اے اللہ کے دشمن باہر نکل جا۔ آپﷺنے یہ عمل تین بار کیا اور فرمایا جاؤ اور جا کر اپنے گورنری کے فرائض سنبھالو۔ فرماتے ہیں: خدا کی قسم اس کے بعد وہ کبھی میرے سامنے نہیں آیا۔ (سنن ابن ماجہ)۔
حضرت اسامہؓ بن زید کا مشاہدہ:۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں کہ ہم حضور اقدسﷺ کے ساتھ سفرِ حج میں تھے۔ بطن روحاء کے مقام پر پہنچے تو ایک عورت نے اپنا بچہ آپﷺ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس بچے نے جب سے جنم لیا ہے، تب سے تکلیف میں ہے۔ آپﷺ نے بچہ گود میں لیا اور اس کے منہ میں تھتکارتے ہوئے فرمایا کہ ’’اللہ کے دشمن نکل جا، میں اللہ کا رسول ہوں۔‘‘ پھر آپﷺ نے بچہ ماں کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا اسے لے جاؤ۔ اب اسے کوئی تکلیف نہیں ہے۔ مجمع الزوائد، دلائل النبوۃ للبیھقی)۔
جن انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے:۔
ان تمام روایات سے دو باتیں واضح ہو گئیں۔ (۱) ایک یہ کہ جنات کا سایہ ایک کھلی صداقت اور واقعاتی حقیقت ہے۔ اسے نفسیاتی بیماری قرار دے کر جھٹلانا اپنے انگریز آقاؤں کی خوشنوی حاصل کرنے کی بھونڈی ادا کے سوا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ (۲) دوسرے یہ کہ جن، آسیب زدہ شخص کے جسم میں داخل ہو کر اسے پریشان کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ بالا تمام احادیث میں حضورؐ نے جنات کو ایک ہی حکم دیا ہے کہ اس مریض کے جسم سے نکل جاؤ۔ 
General Help
+923357764997
+923457818315

Share:

0 comments:

Post a Comment

Kindly Report Dead or Broken link..

General Help
+923357764997
+923457818315

CONTECT US

ہمارے متعلق شفا ء علی آن لائین تشخیص و علاج

ہمارے متعلق شفا ء علی آن لائین تشخیص و علاج کی سروس  لوگو ں کے مسائل اور وقت کی ضرورت کے تحت شروع کی گئی دور درازکے  اور ایسے لوگ جو ...

Blog Archive